13 اکتوبر 2012 - 20:30

اپنے ایک بیان میں سربراہ ایس یو سی نے کہا کہ دہشتگرد سر عام دندناتے پھر رہے ہیں مگر ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا جبکہ جن دہشتگردوں کو سپریم کورٹ نے سزائیں سنا دی ہیں اس پر عمل درآمد میں بھی تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے درہ آدم خیل میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں چودہ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے تازہ لہر نے ایک مرتبہ پھر عوام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، سکول کی معصوم بچیوں سمیت کسی بھی پاکستانی کی جان محفوظ نہیں ہے۔ حصول علم کی خاطر جانے والے طالب علموں، بے یارو مدد گار مسافروں اور بازاروں میں خرید وفروخت و مساجد میں عبادت کیلئے آنے والے سمیت ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سر عام دندناتے پھر رہے ہیں مگر ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا جبکہ جن دہشتگردوں کو سپریم کورٹ نے سزائیں سنا دی ہیں اس پر عمل درآمد میں بھی تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان سانحات کے عوام کے سامنے حقائق سے پردہ نہیں اٹھایا جاتا اور ان کی روشنی میں ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جاتے نیز دہشتگردوں کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اسوقت تک ملک میں امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر انہوں نے درہ آدم خیل میں خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے دعائے مغفرت کی جبکہ لواحقین کیلئے صبر جمیل کی بھی دعا کی جبکہ زخمی افراد کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔

دوسری جانب شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔

.....

/169